چنئی، 19؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)تمل ناڈو کے اسپیکر پی دھن پال نے بدھ کو معطل کئے گئے ڈی ایم کے اراکین اسمبلی کی معطلی واپس لینے پر غور کرنے سے آج ایک بار پھر انکار کر دیا۔ان ممبران اسمبلی کو ایوان میں مبینہ طور پر ہنگامہ کرنے کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا۔معطل رکن اسمبلی اب بھی معطلی کی مخالفت کر رہے ہیں۔اپوزیشن کے لیڈر ایم کے اسٹالن اور ڈی ایم کے ڈپٹی لیڈر درئی مروگن کی قیادت میں ڈی ایم کے کے معطل ممبران اسمبلی نے ایوان کے باہر ایک متوازی اسمبلی لگائی۔ڈی ایم کے کے این نہرو کی درخواستوں کے جواب میں اسپیکر نے یہ واضح کر دیا کہ ڈی ایم کے اراکین اسمبلی کو ایک ہفتے تک کے لیے معطل کئے جانے کے ان کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی نہیں کی جائے گی ۔کے این نہرو ان اراکین اسمبلی میں شامل نہیں ہیں ، جنہیں معطل کیا گیا ہے کیونکہ وہ 17؍اگست کو ایوان میں موجود نہیں تھے۔اسپیکر نے ڈی ایم کے اراکین اسمبلی کو معطل کرنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں کہاکہ اس دن میں نے بہت تحمل سے کام لیا اور بالآخر مجھے کارروائی کرنی پڑی۔ڈی ایم کے کو اس کی اتحادی کانگریس اور آئی یوایم ا یل کی جانب سے بھی تعاون مل رہا ہے اور وہ بھی معطلی کے احکامات کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ڈی ایم کے جو9 ممبر اسمبلی بدھ کو ایوان میں موجود نہیں تھے، انہیں معطل نہیں کیا گیا ہے۔ان میں سے 7 ڈی ایم ممبران اسمبلی نے کانگریس اور آئی یو ایم ا یل کے ارکان کے ساتھ واک آؤٹ کیا۔دھن پال نے کل ڈی ایم کے 80اراکین اسمبلی کی اجتماعی معطلی کو واپس لینے سے انکار کر دیا تھا۔معطل اراکین نے ایوان کے باہر احتجاج کیا تھا اور ان کے ساتھیوں نے اس معاملے پر ایوان کے اندر دو بار واک آؤٹ کیا۔اس کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ا سٹالن نے کہا کہ معطل ممبران اسمبلی نے ایک متوازی اسمبلی لگائی۔ان سے پہلے ہی کہہ دیا گیا تھا کہ یہاں صرف عوامی مسائل پر بحث ہونی چاہیے ، کسی اور موضوع پر نہیں۔انہوں نے کہا کہ اسپیکرکے طور پر متوازی اسمبلی کی قیادت درئی مروگن نے کی ۔ا سٹالن نے اسمبلی کی کارروائی کے براہ راست نشر کے اپنے مطالبہ کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ پہچاننے میں مدد ملے گی کہ غلطیاں کس نے کیں۔